ارباب تیمور خان کاسی

ہم آج تک جو سنتے آ رہے ہیں جناح کے بارے میں دراصل حقیقت اس سے بالکل جدا ہے۔ جناح جو اصل زندگی میں تھے، ویسا انھیں کبھی بھی پیش نہیں کیا گیا۔ انتہا پسندوں نے ان کی اصل پیچان کو چھپا لیا اور جناح کے خلاف مختلف فلسفے بیان کرنے لگ گئے۔

جیسے کہ ان کو جناح بھائی سے صرف جناح کر دیا گیا. ان کی تاریخ پیدائش کو چھپایا گیا. جناح 25 دسمبر کو نہیں بلکہ اکتوبر میں پیدا ہوئے تھے. ان کے اسکول کی سند میں تو یہی موجود ہے، جسے بعد میں یسوح مسیح کے پیدائش کے ساتھ جوڑا گیا.

جناح کو کبھی بھی اردو اور عربی بولنی نہیں آئی. جناح شراب پینے کے عادی تھے. جناح کو ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت لایا گیا اور انھیں کانگریس کے خلاف برٹش حکومت نے استعمال کیا. جناح کبھی بھی آزاد جہموری ہندوستان کے حامی نہیں تھے وہ ہمیشہ سے برطانوی راج کو ہی ہندوستان کے لیے ایک عمدہ حکومت کہتے تھے.

برطانوی راج ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے ایک ہوجانے کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے. اس تحریک کو روکنے کے لیے برطانیہ نے مذہب کا سہارا لیا اور دو قومی نظریے کو متعارف کرایا جو آخر کار ہندوستان توڑنے کی وجہ بنا.

برطانیہ کے پاس اپنی حکومت قائم رکھنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا اور وہ مذہبی نفرت کا راستہ تھا جس سے ہندوستان دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوکر ایک طاقتور آواز سے ایک کمزور چیخ میں تبدیل ہوجاتا اور وہ اپنے اس پلان میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے. اس میں ان کی مدد (Viceroy executive council) کے ممبر سر محمّد شافی نے کی جس نے دو سکیم پیش کیں:

1) یونائیٹڈ ہندوستان کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم مسلمانوں کی طرف داری جیت لے اور یہ صرف ایک طرح ممکن ہے کہ برطانیہ ترکی کے ساتھ امن معاہدہ دستخط کرے.
2) دوسرا، برطانیہ راج ایک منظم اینگلو محمڈن یونین بنائے.
(Facts are Facts by Wali Khan)

برطانیہ سازش کے ذریعے مسلمانوں اور ہندوؤں میں نفرت پیدا کرنے میں کامیاب رہا. ان میں (Montagu-Chelmsford reform) جیسے قانون، خلافت تحریک میں ہندوؤں کو مسلمانوں کا دشمن ثابت کرنے جیسے اقدامات موجود تھے.

21ستمبر1922 کو وائسرائے لارڈ ریڈنگ نے سیکرٹری اسٹیٹ کو لکھا:
” میں یہ ٹیلی گرام اپ کو بھیج رہا ہوں جس سے یہ اندازہ باخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کتنے قریب ہیں مسلمانوں اور ہندوؤں کو توڑنے میں، میں اس کو ممکن بنانے میں پورا لگا ہوا ہوں اور اس معاملے میں سر شافی میری بہت مدد کر رہے ہیں جو ایک عزت دار مسلمان ہیں.”
(Facts are Facts by Wali Khan)

کانگریس کی ابھرتی ہوئی طاقت کو روکنے کا یہی سب سے بہتر حل تھا کہ وہ کانگریس کو صرف ہندوؤں کی پارٹی قرار دے دیں.تاکہ مسلمان الگ ہوکر کانگریس کے لیے مسئلہ بن سکیں.

برطانیہ ان مسلم لیڈرز پر غور کرنے لگا جو کسی بھی وجہ سے کانگریس سے اختلاف رکتے تھے. جناح بھی اُن ہی میں سے ایک لیڈر تھے.

مسلمان ایک حد تک ہندوؤں سے نفرت کرنے لگ گئے تھے اور دو قومی نظریے کو تسلیم کرنے بھی لگ گئے تھے. اِس پر یکم جنوری 1925 کو وائسراے نے ایک خط برطانوی سیکریٹری اسٹیٹ کو لکھا:
” وہ پُل جو گاندھی جی نے بنایا تھا ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان، وہ اب مکمل طور سے ٹوٹ چکا ہے، میرے خیال سے تو مکمل طور پر غائب ہوگیا ہے.”
(Facts are Facts by Wali Khan)

مسلمان ایک انگریز کی لیڈر شپ کے نیچے رہنے کے لیے بالکل تیار تھے اور برطانوی راج کو مکمل سپورٹ کرتے تھے.

برطانوی حکومت کو اب مسلمانوں کو یک جا رکھنے کے لیے ایک اچھے اور باوقار لیڈر کی ضرورت تھی جو جناح نے بعد میں پوری کی.

ہندوستان کی اس تحریک میں مسلم لیگ کے دو بڑے دھڑے کام کر رہے تھے؛ ایک محمّد شافی کی سربراہی میں اور دوسرا جناح کی قیادت میں.

برطانیہ کو یہ سن کر دھچکا لگا کہ جناح ہندو، مسلم الگ الیکشن کرانے کو تیار تھے.

20 مئی 1929 کو وائسرائے نے لکھا:
” میری جناح کے ساتھ ایک لمبی ملاقات ہوئی کچھ دن پہلے، جس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ جناح اور سارے بمبئی کے لوگ جو کانگریس کے ساتھ نہیں ملنا چاہ رہے، وہ ہماری طرف آنا چاہتے ہیں. بشرط کہ اگر ہم آگے اِن کی مدد کریں.”

اسی ملاقات میں وائسرائے نے جناح کو یہ بھی یقین دلایا کہ آپ الیکشن جیتیں گے اور تب جناح نے بھی مسلم لیگ میں دلچسپی لینی شعروع کردی.
(Facts are Facts by Wali Khan)

اس کے بعد ایک برطانوی لارڈ کے خط کے پیشن گوئی کے بعد دونوں مسلم لیگیوں کی دہلی میں ملاقات ہوئی اور سر شافی پوری کی پوری قیادت جناح کو سپرد کر کے پیچھے ہٹھ گئے.

26 نومبر 1929 کو وائسرائے نے لکھا:
” مجھے کچھ مشورے سننے کو مل رہے ہیں کہ حکومت مداخلت کرے پارٹی کے فنڈ کے حوالے سے تاکہ ایک طاقت ور مسلم نمائندگی سامنے آئے اور ہم ہر طرح سے اِن کی مدد کریں گے.”
(Facts are Facts By Wali Khan)

جناح کی مسلم لیگ کو برطانیہ کی مدد سے ایک طاقت ور پارٹی بنایا گیا. جو کہ برطانیہ کے لیے کانگریس سے لڑے۔

جناح کو ہندوستان کے کافی علاقوں کی زبانوں تک کا علم نہیں تھا. جیسے کہ ایک بار برطانیہ حکومت نے اِن سے کہا کے NWFP والے اپنی زبان کو علاقے میں رائج کرنا چاہتے ہیں. جس پر جناح صاحب نے فرمایا، ” بالکل ہندی رائج کی جائے وہاں.” ان کو یہ علم تک نہیں تھا کہ وہاں پشتوں بولی جاتی ہے نہ کہ ہندی.

جب Lord Willingdon ہندوستان کے لارڈ منتخب ہوئے تو جناح نے ہندوستان چھوڑنے کو بہتر جانا. کچھ ذاتی مسائل کی وجہ سے وہ لندن چلے گئے. اسی وجہ سے وہ تیسری راؤنڈ ٹیبل کونفرنس میں شریک نہ ہوسکے. جب Willingdon کی لارڈشپ ختم ہوئی اور اُن کی جگہ linlithgow نے لے لی تو جناح واپس ہندوستان آ گئے اور لارڈ سے ملاقات کی. جس کا لارڈ نے اپنے خط میں بھی ذکر کیا تھا.

“جناح نے بہت سخت لہجے میں بتایا کہ آپ لوگ پوری توجہ نہیں دے رہے مسلمانوں کو، جس کی وجہ سے مسلمانوں کا رحجان کانگریس کی طرف ہونے کا خطرہ ہے.”

انھوں نے آگے لکھا، “جناح پریشان تھا گاندھی کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر، ان کا کہنا تھا کہ گاندھی جی کا سارے کا سارا زور باچا خان پر لگائی گئی پابندی کو اٹھانے پر تھا تاکہ وہ واپس اپنے گاؤں جاسکے اور عبدل قیوم کی حکومت کو گرا سکے.”
(Facts are Facts by Wali Khan)

محمّد علی جناح ساری زندگی برطانوی حکومت کی ہی طرف داری میں بولے ہیں اور ہمیشہ اِن کے ہی اشاروں پر اپنے فیصلے کیے ہیں. پاکستان بنانا اور مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنا کبھی بھی جناح کا مقصد نہیں رہا، یہ برطانیہ کا مقصد رہا ہے. ہمیشہ سے ہمارے تاریخ دانوں نے اِس حقیقت کو چھپایا.

میں نے یہاں جن خطوط کا ذکر کیا ہیں یہ سارے برٹش وائسرائے انڈیا کے پورے ہفتے کی رپورٹ (Secretary of state for india in britain) کو کیا کرتے تھے. یہ سارے خطوط آج بھی انڈیا آفس لائبریری لندن میں موجود ہیں اور ہر انسان کی پہنچ میں ہیں. ان کی مزید تفصیلات ولی خان کی کتاب “حقائق، حقائق ہیں” میں دیکھی جا سکتی ہے.

Advertisements